Posts

عید میلاد النبی- اصلیت اور حقیقت

Image
  اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری  دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعینؒ،تبع تابعینؒ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ : ’’اللہ کی قسم جشن عیدمیلاد النبی قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ‘‘ محدث العصر مجتہد وفقیہ مولانا عبد المنان نورپوری ؒ کےتلمیذ رشید مولاناطیب محمدی حفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے عید میلاد کی تاریخ ،اس کی شرعی حیثیت ،عیدِ میلاد منانے والوں کے دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہے  اور ثابت کیا ہے کہ عہد نبوی ،عہد صحابہ او...

اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا؟

Image
فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلال اسلام میں احکام شریعت کو ترجیح حاصل ، جو شخص الله و رسول کے حکم کو تسلیم نہیں کرتا اور کوئی دوسری رائے رکھتا ہے وہ منکر و کافر ہے دین اسلام کی بنیادی اساس الله و رسول کے احکامات پر رضامندی، اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ الله و رسول کا حکم سنتے ہی اپنی گردن جھکا دینا اور سر تسلیم خم کر دینا دین کی بنیادی اساس ہے۔ اسلام’’تسلیم ‘‘سے ہے یعنی قرآن و سنت، الله و رسول کے احکام کو تہہ دل سے تسلیم کرنا، ان کے ہر امر ،یعنی  ہر حکم اورہر فیصلے پر راضی ہونا اور کوئی دوسری رائے نہ رکھنا اسلام ہے۔      دین اسلام میں احکام شریعت کو ترجیح حاصل ہے۔ جو شخص الله و رسول کے حکم، دین (نظام ِ حیات) کو تسلیم نہیں کرتا اور کوئی دوسری رائے رکھتا ہے وہ منکر و کافر ہے۔ ہر وہ شخص، ہر وہ جماعت ،گروہ اور تنظیم جس کا مرجع اول وآخر صرف کتاب الله وسنت رسول نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں بلکہ الله کا منکر، رسول الله اوردین کا منکرہے اور کافر ہے۔ ہر وہ نظام کفر ہے جو اسلامی نظام کو چھوڑ کر اپنایا جائے۔ ہر وہ اصول کفر ہے، ہر وہ ضابطہ کفر ہے جو اسلامی ضابطہ حیات کو چھوڑ کر اپن...